Awareness ماحولیات سے آگاہی

      

                                         Conocarpus Erectus Plant

اس پودے کا نام "کونو کارپس" ہے تاریخی طور پر کونو کارپس صومالیہ کے مقامی درخت کے طور پر جانا جاتا رہا ہےصومالیہ میں کونوکارپس ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ پایا جاتاہے 
چونکہ صومالیہ، جبوتی اور یمن ایک ہی ساحلی پٹی پر واقع ہیں اس لئے دیکھتے ہیں دیکھتے یہ پودا جبوتی اور یمن میں بھی نظر آنے لگا.انیسو اسی تک یہ درخت سوڈان، کینیا، سعودی عرب، شام،پاکستان اور بھارت تک نظر آنے لگا تھا برازیل اور کیوبا سمیت جنوبی امریکہ کے 27 ممالک، اور ان کے علاوہ میکسیکو اور امریکہ (فلوریڈا) میں بھی پایا جاتاہے
کویت میں یہ پودا 1988 میں لایا گیا. قطر نے 2010 میں کونوکارپس آبادیوں میں لگانے پر پابندی لگا دی ہے. کویت نے بھی 2014 میں کونوکارپس شہروں اور ایسی جگہوں پر اگانے پر پابندی بلکہ اسی طرح ایران نے کونوکارپس کو شہروں میں لگانے پر پابندی لگا دی ہےلگا دی ہے جہاں زیر زمین پانی یا سیورج پائپ وغیرے پائے جاتے ہوں.اگست 2016 میں کمشنر کراچی نے شہر بھر میں کونوکارپس کی خریدو فروخت پر پابندی لگائی لیکن اب یہ کراچی کے شہری ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ اس پابندی پر کس حد تک عمل ہواکونو کارپس پہ ہونے والی سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے۔

کونوکارپس کے پتوں میں مختلف قسم کے 31 کیمیکل پائے جاتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لئے فائدے یا نقصان کا باعث بنتے ہیں. ان کیمیکل میں چند ایک پر تو ریسرچ ہو چ کی ہے جبکہ بقیہ پر تحقیق ہونا ابھی باقی ہے.
جرنل آف فارماسوٹیکل، بائیولوجیکل اینڈ کیمیکل سائنسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کونو کارپس کا پودا آرائشی پھولوں کے اگاؤ میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے. کونوکارپس کی جڑوں سے نکلنے والے مادے آرائشی پھولوں کے اگاؤ کو 40 فی صد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
اسی طرح امریکن جرنل آف پلانٹ سائنسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کونوکارپس کا پودا مکئی اور رواں کے اگاؤ میں رکاوٹ کا باعث ہے.
جب مکئی اور رواں کے بیجوں کو کونوکارپس کے پتوں کا 7 فیصد محلول لگا کر بویا گیا تو ان بیجوں‌کا اگاؤ محض 11 فیصد رہ گیا.
انٹر نیشنل جرنل آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کونوکارپس کا پودا زہریلا نہیں ہے. تجربے میں درخت کے پتوں کا جوس نکال کر چوہوں کو پلایا کر ان کا مشاہدہ کیا گیا. چوہے مرنے سے تو خیر بچ گئے لیکن ایسے چوہے جنہیں یہ جوس سب سے زیادہ پلایا گیا تھا ان کے جگر اور گردوں میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں. اس تجربے سے سائنسدانوں نے یہ نتیجا نکالا کہ کونو کارپس کو ایک زہریلا پودا بہرحال نہیں کہا جا سکتا .
کراچی شہر میں یونیورسٹی آف کراچی کے ریسرچر ڈاکٹر انجم پروین اور اب کے ساتھیوں نے اہم تحقیق میں فضا میں موجود پولن کا مشاہدہ کیا. اس تجربے سے پتا چلا کہ کراچی کی فضا میں مختلف 32 پودوں کے پولن موجود ہیں جن میں سے 12 پودوں کے پولن انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور الرجی پیدا کرتے ہیں.
اوران بارہ پودوں میں جنگلی چولائی (جڑی بوٹی جس کا قد زیادہ سے زیادہ اڑھائی فٹ تک ہوتا ہے)، ایٹریپلیکس (جھاڑی نما پودا جس کا قد زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک ہوتا ہے)، لانا (ایک جھاڑی نما پودا)، کونوکارپس، لان گھاس، برو، رائی (جو سے ملتا جلتا ایک پودا)، ولائیتی کیکر، اسبغول، باتھوا (باتھو کی قسم کا پودا)، سفیدہ اور دیسی کیکر شامل ہیں.محققین نے لان گھاس کے بعد کونوکارپس کو استھما (سانس کی ایک بیماری دمہ) کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔اس پودے پر ابھی حتمی تحقیق ہونا باقی ہے۔
کبھی کبھی ایک پودا جو ایک ملک میں فائدہ مند ہوتا ہے دوسرے براعظم یا ملک کی آب و ہوا سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے نقصان دے پودا بن جاتا ہے۔
یہ پودا بجائے انسانی صحت کے لیئے مفید ہونے کے انسانی صحت کے لیئے مضر ہے ۔۔۔۔۔۔
محکمہ موسمیات اور حکومتِ پاکستان سے اس کی شجر کاری کرنے پر پابندی کی اپیل کرتے ہیں ۔ تا کہ آنے والی نسلوں کے لیئے صاف آب و ہوا کے لیئے لگائے جانے والے درخت ان کی صحت کے لیئے نقصان دہ ثابت نا ہوںجیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ہر سبز پودا فائدہ مند نہیں ہوتا۔۔۔۔
اس کے اُگائے جانے پر پابندی عائد کی جائے اور رہائشی سوسائٹیز میں اسے ہر گز نا لگایا جائے۔اس کی جگہ نیم، دھریک، بکین، ٹاہلی، پاپولر، جیسے انسان  دوست درخت لگائےجانےچاہیئیں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنے لوکل درخت لگانے ہیں ۔نیم جو آپکودن میں بھی آکسیجن دیتا ہے۔ہمارے ہاں 9 درخت ایسے ہیں جو دن رات آکسیجن مہیاء کرتے ہیں 

 انجینیئراسلم جان ئوسف زئی  

 

 


Print   Email